86

لاہور میں نواز شریف پر جوتا پھینک دیا گیا، تین افراد گرفتار

لاہور میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف جامعہ نعیمیہ کے زیرِ اہتمام سیمینار میں شرکت کیلئے پہنچے۔ جب وہ خطاب کے لئے ڈائس پر آئے تو پہلے ایک شخص نے ان پر جوتے سے حملہ کیا، جس کا نشانہ خطا ہوا تو دوسرے شخص نے انہیں جوتا دے مارا جو ان کے کندھے پر لگا۔ جوتا لگنے کے بعد نوازشریف پیچھے ہٹ گئے، اس موقع پر ایک شخص نے نعرے بھی لگائے۔

موقع پر موجود لوگوں نے حملہ کرنیوالے افراد کو پکڑ لیا اور انہیں سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کر دیا۔ نواز شریف نے تقریب سے مختصر خطاب کیا اور واپس چلے گئے۔

ملزم کے 2 ساتھی بھی پولیس کی تحویل میں ہیں جن سے نامعلوم مقام پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جوتا پھینکنے والے منور اور اس کے 2 ساتھیوں عبدالغفور اور ساجد سے حساس ادارے اور پولیس تفتیش کر رہی ہے۔

جوتا پھینکنے کے واقعے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس حرکت کو غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔ گزشتہ روز سیالکوٹ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کے دوران ایک شخص نے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینک دی تھی۔

پاکستان تحریک اںصاف کے چیئرمین عمران خان نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خوشی ہے کہ پی ٹی آئی کا کوئی کارکن جوتا پھینکنے میں ملوث نہیں ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے جوتا پھینکنے کو گری ہوئی حرکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت کو اس طرح بے عزت کر کے عوام سے براہ راست رابطے سے نہیں روکنا چاہیے۔

وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نے ردعمل میں کہا کہ ہمارے مخالفین بھی جوتا پھینکنے کے عمل کی مذمت کر رہے ہیں، ایسے رویے سے اہلِ سیاست ہی نہیں پاکستان کیلئے بھی مشکل ہو جائے گے۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنما اپنے کارکنان اور عوام کو سیاسی اخلاقیات کا بھی درس دیں جبکہ خالد مقبول صدیقی نے ایسے اقدام اور رویوں کو جمہوریت مخالف قرار دیا۔

وزیرِ اعلی بلوچستان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے جمہوری حق ہے لیکن کسی تذلیل انتہائی شرمناک عمل ہے۔ ترجمان پیپلز پارٹی مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت ایک دوسرے کو گالیاں دیں تو کارکن تو دو ہاتھ آگے جائیں گے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ روایت چل پڑی تو کوئی بھی سیاسی جلسہ نہیں کر سکے گا۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ایسی حرکتوں سے نواز شریف اور اتحادیوں کے صبر امتحان نہ لیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں