103

برطانوی ماہر طبعیات سٹیفن ہاکنگ انتقال کر گئے

معروف برطانوی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ 76 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انہیں البرٹ آئن اسٹائن کے بعد صدی کا دوسرا بڑا سائنس دان تصور کیا جاتا ہے۔

آج کے جدید دور کے آئن سٹائن کے لقب سے شہرت پانے والے ماہر طبعیات سٹیفن ہاکنگ انتقال کر گئے، وہ 8 جنوری 1942 کو آکسفورڈ میں پیدا ہوئے ۔ سٹیفن ہاکنگ کو ٹائم مشین بنانے کے حوالے سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ سٹیفن ہاکنگ کو 2009 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں امریکا کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازا گیا تھا ۔

سٹیفن ہاکنگ کو 1963 میں موٹر نیورون کا مرض لاحق ہوا تھا اور اس وقت ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ چند ماہ تک زندہ رہ سکیں گی۔ ان کو اس وقت شہرت ملی جب انہوں ںے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پیش گوئی کی کہ آنے والے سو سال دنیا کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔ ان سالوں میں دنیا میں شہاب ثاقب بھی گریں گے اور یہاں کے انسانوں کیلئے زمین پر رہنا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں ںے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں ایسے حالات ہوں گے کہ انسان کیلئے اس کرہ ارض پر جینا مشکل ہوجائے گا۔

سٹیفن ہاکنگ کو پارکنسن کی بیماری کا بھی سامنا کرنا پڑا جس سے ان کی قوت گویائی متاثر ہوئی اور وہ بولنے اور حرکت کرنے سے محروم ہوگئے ، ان کے دوستوں نے ان کیلئے ایک کمپیوٹر تیار کیا تھا جو ان کے خیالات کو آواز کی صورت تبدیل کر کے ان کے دوستوں تک پہنچا دیتا تھا.

70 کی دہائی میں اسٹیفن ہاکنگ کا جسم ان کا ساتھ چھوڑ گیا اور وہ ویل چیئر پر آگئے اور اپنی تمام کامیابیوں کا سفر ویل چیئر پر بیٹھ کر ہی طے کیا۔

اسٹیفن ہاکنگ اپنی بات کہنے کے لیے سیدھے ہاتھ گال کو معمولی سی حرکت دیتے تھے اور انہیں بات سمجھنے کے لیے کمپیوٹر کی مدد حاصل رہتی تھی۔

ماہرین نے اسٹیفن ہاکنگ کے چشمے پر ایک سینسر نصب کیا اور اسے دائیں گال کی حرکت سے جوڑ دیا تھا، اسٹیفن دائیں گال کو حرکت دیتے اور مطلوبہ حرف کمپیوٹر اسکرین پر الگ سے نمایاں ہوجاتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں